بهلی لوک ‏تے ‏کسان

"ساری فصل سوکھ کر ڈھنے کو هے بهلی لوک......روٹی ڈال دے مجهے بهوک لگی هے -"
سر کا سالو درست کرتے هوئے بهلی لوک نے چارے کا خیال چهوڑ دیا اور تهڑے کی طرف چلنے لگی جہاں لیپے پوتے چولهے پر چڑهی هانڈی سرسرارهی تهی-
"چهوڑ دے اوپر والے کی یاری چهوڑ دے گنوارو-اوپر والا ڈاهڈا هے مرضی والا هے-هماری کب سنتا هے بهلے آدمی-اس نے پیغمبروں کی نه سنی هم کس گنتی شمار میں ؟......بارش آئے آئے نه آئے نه آئے......بال هٹ چهوڑ دےکملیا کچھ نهیں ملنا اوپر والے سے-"  
کسان اتنی سختی جهیلنے کے باوجود رب کی پوالی سے بندها کهڑا تها-صبر کی صدری اس کے تن سے کبهی جدا نہ هو پاتی...... "سنتا هے سنتا هے..... تیرا اور رب کا بیر تو ازلی هےکم عقل' میرا ابا کہا کرتا تهاجب کسان آسمان پر بادلوں کو کهوجتا نہیں تو بارش نہیں آتی....اوپر والے کو هماری کهوج سے پیار هے۔۔۔۔۔

بانو قدسیہ

Comments

Popular Posts