"چھپن چھپائی"
"چھپن چھپائی"
جب لڑکا اور لڑکی، لڑکپن میں قدم رکھتے ہیں تو دونوں کی پیار کرنے کی چاہ یکساں ہوتی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اس اوبالی عمر میں لڑکے بے دھڑک جبکہ لڑکیاں چھپ چھپ کر محبت کرتی ہے۔ مگر جیسے جیسے انکی عمر بڑھتی ہے، زمانے کے تجربات انکی زندگی اور کفیات بدلنا شروع کر دیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں، عموما" 70 فیصد سے کچھ زیادہ ہی لڑکیوں کی شادی 'کہیں اور' ہو جاتی ہے اور لڑکوں کے 'ماپے' بھی پسند کی شادی کو معیوب سمجھتے ہیں۔ اور اگر خلاف توقع یا رواج کہیں لڑکے کی شادی اسکی مرضی سے ہو بھی تو اسکی صورت حال بھی دیدنی ہوتی یے۔ خیر، یہ کسی اور دن کا قصہ ٹھہرا!
اس طرح دونوں گھر والوں کی رضا مندی سے عموما اپنا گھر بساتے ہیں۔ اندیکھی امیدوں اور ان چاہی شخصیات کے ساتھ، زندگی بھر جینے مرنے، خوشی و غمی ساتھ نبھانے کی قسمیں بخوشی کھاتے ہیں۔ خیر، جو بھی ہوتا ہے، لڑکے مرد بن کر اپنے خول میں بند ہوت چلے جاتے ہیں اور لڑکیاں، عورت بن کر اپنی ذمہ داریوں کی لپٹ مین لپٹتی چلی جاتی ہیں۔ یہ قطعی طور ہر کوئی بوسیدہ یا ترس کھانے والی صورتحال نہیں ہے۔
لیکن اس سب کے بیچ وہ دونوں خود کہیں کھو جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اپنے 'من چاہے' ساتھی سے محروم محسوس کرتے ہیں۔ یا اپنے 'آئیڈیل' یعنی مطلوبہ پیار و محبت کے مجسمے کو دیوانہ وار نادانستہ کہیں کھوجتے ریتے ہیں اور اسے میسرشدہ جسم میں ہی تراشنا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی ایک دوسرے کو اپنے اپنے آئیڈیلز کی طرز پر بدلنا شروع کر دیتے ہیں۔
محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے
مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے
بلاخر جو لڑکا لڑکپن میں، بے دھڑک چاہت کے واسطے کچھ بھی کر گز سکتا ہے، محتاط ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی بیوی، اسکی پرتیں کھولنے میں مصروف نظر اتی ہے۔ اور ان پرتوں کو کھولتے کھولتے اسکی اپنی آنکھیں نم، جیسے پیاز کاٹتے ہوئے اور دل اداس کر بیٹھتی ہیں۔ ویسے بیوی اسکو اسکے حال پر چھوڑ بھی دے، تو چل سکتا ہے۔ مگر وہ عورت بھی اپنی ڈھٹائی کے ساتھ لگی رہتی ہے، شاید چاہے جانے کی امید میں یا پھر تسخیر کرنے کی؟
دوسری جانب، صاحب شوخ و چنچل محبت جو اطاعت گزاری کی چاردیواری میں لپتی بھی ہو، کے متلاشی ہوتے ہیں۔ لہکن انکو یہ سہولت اب صرف بیوی سے میسر ہوتی ہے۔ سو وہ بھی نیک نیتی سے اسکے جلیبی نماں 'بل' سلجھانا اور کچھ 'حضرات' وہ بل سیدھا بھی کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اکثر بار وہ، منہ کے بل گرتے ہیں۔ کیونکہ عورت کا سسٹم تو صرف اس کو اندر جھانکنے کی اجازت دیتا ہے جو اسکو اپنے پرت کھولنے دے۔
"چھپن چھپائی" کا یہ سلسلہ یونہی سالہا سال جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ دونوں اصناف ایک دوسرے کے بارے میں ان 'دقیانوسی تصورات' کو اک نتیجے کے صورت میں معاشرے اور اپنے وجود پر مسلط کر لیتے ہیں۔ اور ساری زندگی اسی تصوراتی چکی کا باریک پیسا خود بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایک دوسرے کو ایک مسلمہ حقیقت نہیں مان سکتے؟ کیا وہ ایک دوسرے کا علیحدہ مگر مشترک تشخص برقرار رکھنے میں مدد گار ثابت نہیں ہو سکتے؟ کیوں ایک دوسرے کو تسخیر کرنا انکا عظم اور اولین مقصد بن جاتا ہے؟ کیوں سب پانچوں انگلیوں کو برابر کرنے میں مست ہوجاتے ہیں؟
کس قدر حسین ہو نا زندگی اگر سب کو جینے اور اسکو پرسکون گزارنے کا حق ہم تسلیم کر لیں اور مل کر ایک دوسرے کو 'پروسیں'، زندگی کے حسین رنگین دھاگوں کو دھنکیں، جہاں لال اپنی لالی بکھیرے تو کہیں نیلا سائباں میسر کرے اور پیلا، زندگی کو روشن اور جگمگا دے! یوں سب کی زندگی قوس و قزاں بن کر مسکرائے۔
#عریفہ_اعظم
#بقلم_خود

Comments
Post a Comment